جسٹس محسن اختر کیانی کا استعفیٰ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے صحت کے مسائل، ذاتی وجوہات اور عدالتی آزادی سے متعلق تحفظات کو اپنے فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔ آج نیوز کے مطابق، ان کے استعفے کے خط میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے عدلیہ پر اثرات سے متعلق خدشات بھی بیان کیے گئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا استعفیٰ ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ان کے عدالتی دور کا اختتام ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے نام خط میں جسٹس کیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق، ان عوامل سے انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔

جسٹس کیانی نے اپنے خط میں بتایا کہ انہوں نے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش آئین کی بالادستی برقرار رکھنے، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلاخوف و امتیاز انصاف فراہم کرنے پر مرکوز رہی۔ تاہم، انہوں نے عام سائلین کو درپیش مشکلات اور عدالتی کارروائیوں کی منصفانہ حیثیت پر عوامی اعتماد میں کمی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ضمیر انہیں بطور جج مزید کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق، عدالتی عہدہ آزادی، آئینی اصولوں اور انسانی وقار کے تحفظ سے جڑا رہنا چاہیے۔ جسٹس کیانی نے بتایا کہ وہ دوبارہ وکالت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوام کی خدمت، لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔

ان کا استعفیٰ اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ تبادلے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تبادلہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اکثریتی فیصلے کے بعد ہوا تھا۔ تبادلے سے قبل جسٹس کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شامل تھے اور سینیارٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔

تبادلے کے بعد رپورٹس کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کی سینیارٹی فہرست میں ان کا نمبر 12واں ہوگیا تھا۔ انہوں نے ہائیکورٹس کے درمیان ججوں کے تبادلوں کو بھی چیلنج کیا تھا اور عدالتی انتظامی امور پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ حال ہی میں نظرثانی شدہ ڈیوٹی روسٹر کے تحت انہیں لاہور ہائیکورٹ کی راولپنڈی رجسٹری میں سنگل بینچ کی سربراہی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور جج ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور انہیں 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھا۔ مارچ 2024 میں وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان چھ ججوں میں شامل تھے جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر عدالتی امور میں انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ مداخلت کی نشاندہی کی تھی۔ ان کا استعفیٰ عدالتی عہدے سے علیحدگی کا اعلان ہے، جبکہ انہوں نے وکالت کے ذریعے عوامی خدمت جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین