قطر نے ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئے معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار نے بدھ کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کی جانب سے ہفتے کے اختتام تک اس تجویز کا جواب متوقع ہے۔ قطر ایران امن معاہدے کا مقصد دونوں فریقوں کے تحفظات دور کرنا اور تنازع کے خاتمے کے لیے راستہ نکالنا ہے۔
عہدیدار کے مطابق مجوزہ معاہدے میں اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے سات دن کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس دوران ایران اور امریکا کو روزانہ کی بنیاد پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے ایک دوسرے کے خدشات دور ہوسکیں۔ اس منصوبے کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بڑھانا اور ممکنہ معاہدے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ تاہم، مجوزہ اقدامات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو اس منصوبے پر عمل درآمد اگلے ہفتے کے آغاز میں شروع ہوسکتا ہے۔ معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کے لیے کئی ممالک بھی کردار ادا کریں گے۔ قطر اور پاکستان نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جنگ کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت اور تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تنازع مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل چکا ہے، جس سے علاقائی سلامتی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ قطر ایران امن معاہدے کی نئی تجویز سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک اور موقع فراہم کرسکتی ہے۔
اتوار کو تہران میں ہونے والی ملاقات سے پہلے خدشات سامنے آئے تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو دوبارہ ایران پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ مذاکرات سے آگاہ عہدیدار نے ان خدشات کو نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب جیتنے کی کوششوں سے بھی جوڑا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران پر دوبارہ حملے کرنے کی دھمکیاں دہرائیں۔
ایرانی سکیورٹی حکام نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے خلیج میں زیر سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران یہ اقدامات کرسکتا ہے۔ اس صورتحال نے علاقائی مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ سفارتی حل کی ضرورت بھی زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔
اس سے پہلے سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عارضی امن معاہدہ طے پایا تھا، لیکن وہ جلد ہی ناکام ہوگیا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران کے اتحادی یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب پر بھی متعدد حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ ایسے حالات میں قطر ایران امن معاہدے کی نئی تجویز خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہے، تاہم مستقل امن کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔