کراچی میں بلدیاتی محصولات بڑھانے کے لیے ایک نئے ٹیکس کے نفاذ کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) نے "کراچی انٹرٹینمنٹ ٹیکس” کے نام سے ایک نئی تجویز متعارف کرائی ہے، جس کا اطلاق شہر کے مختلف ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، لاجز، میرج ہالز، مارکیز، میرج لانز، بینکوئٹس اور ایئر بی این بی رہائشی یونٹس پر ہوگا۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ان اداروں سے صارفین کے بل کی مجموعی رقم پر ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ بلدیاتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہری سہولیات میں بہتری لانا اور سیاحت و مہمان نوازی کے شعبے کے لیے اضافی مالی وسائل پیدا کرنا ہے۔
میونسپل کمشنر ابرار جعفر نے اس تجویز پر عوامی رائے طلب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شہری، کاروباری ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اپنے اعتراضات اور تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے باقاعدہ سماعت 10 جون کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مرکزی دفتر میں منعقد کی جائے گی۔
بلدیاتی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے شعبۂ سیاحت کی مالی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور خدمات کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے موجودہ ٹیکس گزٹ میں "انٹرٹینمنٹ ٹیکس – سٹی ٹورازم اینڈ ہاسپیٹیلٹی” کے نام سے نئی شق اور متعلقہ بائی لاز شامل کیے جا رہے ہیں۔
میونسپل کمشنر کے مطابق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت کے ایم سی کو اپنے دائرۂ اختیار میں مختلف ٹیکس، فیس، ریٹس اور ٹولز نافذ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ نئے ٹیکس سے متعلق تمام اعتراضات اور سفارشات سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کے دفتر میں سنی جائیں گی۔
دوسری جانب سٹی کونسل میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے بھی مجوزہ ٹیکس پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن ارکان جلد اس معاملے پر اپنا مشترکہ مؤقف سامنے لا سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اپوزیشن اس ٹیکس کی مخالفت کر سکتی ہے، تاہم سٹی کونسل میں اکثریت رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اس بل کی منظوری حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر تجویز منظور ہو جاتی ہے تو کراچی انٹرٹینمنٹ ٹیکس آئندہ مالی سال سے نافذ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات شہر کے مہمان نوازی اور ایونٹ مینجمنٹ کے شعبوں پر مرتب ہوں گے۔