خیبر پختونخوا میں گیس چوری

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب سے زائد کی گیس چوری

پشاور: خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں مالی سال 2025-26 کے دوران 4 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی گیس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں گیس نقصانات کی شرح میں تقریباً ساڑھے 3 فیصد اضافہ ہوا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوبی اضلاع میں ہر ماہ اوسطاً 35 کروڑ 78 لاکھ روپے مالیت کی گیس چوری ہورہی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق روزانہ ہونے والی گیس چوری کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ روپے بنتی ہے۔

جنوبی اضلاع کے گیس حکام نے گیس چوری کے تسلسل کو خیبر پختونخوا حکومت کے مبینہ عدم تعاون سے جوڑا ہے۔ حکام کے مطابق غیر قانونی کنکشنز اور گیس چوری کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث صورتحال پر قابو پانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

گیس حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض سیاسی شخصیات کی مبینہ سرپرستی کے باعث بھی گیس چوری میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکام کے مطابق بااثر افراد کی پشت پناہی سے غیر قانونی کنکشنز اور گیس چوری کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

گیس چوری سے نہ صرف قومی خزانے اور گیس کے شعبے کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ غیر قانونی کنکشنز کے باعث انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گیس پائپ لائنوں سے غیر قانونی چھیڑ چھاڑ خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

کرک کے گاؤں نشپا کے قریب حالیہ واقعہ نے غیر قانونی کنکشنز کے خطرات کو بھی نمایاں کردیا۔ پائپ لائن سے مبینہ طور پر غیر قانونی کنکشن لینے کے دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے۔

جنوبی اضلاع میں گیس چوری کے تازہ اعدادوشمار نے صورتحال پر تشویش بڑھا دی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نقصانات میں اضافے اور غیر قانونی کنکشن کے باعث پیش آنے والے حادثات کے بعد گیس چوری کے خلاف مؤثر کارروائی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت مزید اہم ہوگئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین