کویت کی تیل کی صنعت امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث شدید بحران کا شکار ہے اور کویت تیل آبنائے ہرمز کا راستہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم بن گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث کویت کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تیل کویت کی معیشت کی بنیادی بنیاد ہے اور حکومتی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ خام تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ ملک کی تقریباً تمام برآمدی آمدنی بھی تیل کی فروخت پر منحصر ہے، جبکہ کویت کے پاس دنیا کے کل تیل کے ذخائر کا تقریباً 6 فیصد موجود ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے برعکس کویت کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود نہیں جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرسکیں۔ اسی وجہ سے کویت کو عالمی منڈی تک خام تیل پہنچانے کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
بحران نے کویت پیٹرولیم کارپوریشن کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ادارے کے چیف ایگزیکٹو شیخ نواف سعود الصباح نے موجودہ صورتحال کو 1990 میں عراق کے حملے کے بعد کویت کی تیل کی صنعت کا سب سے بڑا بحران قرار دیا۔
جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے فورس میجیور کا اعلان کیا تھا۔ اس قانونی اقدام کے ذریعے غیر متوقع حالات کے باعث معاہدے کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ نوٹس جون میں ختم کردیا گیا۔
کویت کو ایرانی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جن میں پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اپریل میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر پر ڈرون حملے کے بعد ادارے کے سربراہ کو عارضی دفتر منتقل ہونا پڑا۔
جنگ سے قبل کویت روزانہ 26 لاکھ بیرل سے کچھ زیادہ تیل پیدا کر رہا تھا اور 2040 تک پیداوار 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچانے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ حکام کے مطابق کویت تیل آبنائے ہرمز کا راستہ کھلتے ہی پیداوار کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لایا جاسکتا ہے اور مزید اضافہ بھی ممکن ہوگا۔