موساد ایران منصوبہ

ایران میں حکومت گرانے میں ناکامی، موساد کے 2 افسر برطرف

ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مبینہ منصوبے میں ناکامی کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے دو سینئر عہدیداروں کو عہدوں سے برطرف کردیا۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایران سے متعلق موساد کی سرگرمیوں اور مبینہ منصوبے کے نتائج کے بعد سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطرف کیے جانے والے عہدیداروں میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔ دونوں عہدیدار مبینہ طور پر ایران میں سیاسی تبدیلی سے متعلق ایک منصوبے کی تیاری میں شامل تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مبینہ منصوبے کا مقصد ایران میں ملک گیر احتجاج کو ہوا دینا اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف دباؤ بڑھانا تھا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے دہشتگرد گروہوں کو بھی استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں عہدیدار موساد ایران منصوبہ کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس مبینہ ناکامی کے بعد موساد کے سربراہ کی جانب سے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا نے مزید بتایا کہ دونوں عہدیداروں کی برطرفیاں صرف ایران سے متعلق مبینہ منصوبے تک محدود نہیں بلکہ موساد میں وسیع تنظیمی تبدیلیوں کا بھی حصہ ہیں۔ ادارے میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور انٹیلی جنس مقابلہ جاری ہے۔

تاہم، یہ تمام تفصیلات اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور مبینہ خفیہ کارروائیوں سے متعلق ہیں، اس لیے منصوبے کی مکمل نوعیت اور اس کے حقیقی نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بھی منصوبے کی مکمل عملی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

موساد میں مبینہ طور پر ہونے والی یہ تبدیلیاں ایران سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ موساد ایران منصوبہ اور اس کے بعد دو سینئر عہدیداروں کی برطرفی خطے میں جاری اسرائیل ایران کشیدگی اور خفیہ سرگرمیوں کے تناظر میں مزید توجہ حاصل کرسکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین