نولان کی اوڈیسی نے برطانیہ میں یونانی اساطیر اور ہومر کی مشہور رزمیہ نظم میں نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ فلم کی کامیابی کے بعد نہ صرف سینما گھروں میں شائقین کی تعداد بڑھی بلکہ قدیم یونانی ادب کی کتابوں کی فروخت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مارکیٹ ریسرچ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں چار ہفتوں کے دوران اوڈیسی کے پرنٹ ایڈیشنز کی فروخت میں تقریباً 1400 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانوی امریکی کلاسکس ماہر ایملی ولسن کے 2017 کے ترجمے کی فروخت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی۔
برطانیہ کی معروف کتابوں کی چین واٹرسٹونز نے بتایا کہ ایملی ولسن کے ترجمے کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔ اس کے ساتھ اوڈیسی کے دیگر تراجم کی خریداری بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
نولان کی اوڈیسی کی مقبولیت نے دیگر یونانی اساطیری کتابوں کی فروخت بھی بڑھا دی ہے، جن میں دی ایلیڈ، سرسے اور دی پینیلوپیڈ شامل ہیں۔ اسی طرح اسٹیفن فرائی کی کتابیں اوڈیسی، مائتھوس اور ٹرائے بھی برطانیہ میں بیسٹ سیلرز کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی اس رجحان کا واضح اثر دیکھا گیا۔ اسپاٹیفائی کے مطابق اوڈیسی کے آڈیو بکس کی تلاش میں 310 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناظرین فلم کے بعد اصل داستان کو مختلف انداز میں پڑھنے اور سننے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
برطانوی جامعات کے ماہرین نے اس رجحان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نوجوانوں میں کلاسکس، یونانی تاریخ اور قدیم ادب کے مطالعے کا رجحان بڑھے گا۔ ان کے مطابق ہومر کی کہانیاں اپنی مضبوط کہانی، کرداروں اور انسانی جذبات کی وجہ سے آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔
اگرچہ نولان کی اوڈیسی کو ناقدین کی جانب سے مختلف آرا کا سامنا ہے، لیکن بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ فلم نے قدیم یونانی ادب کو دوبارہ عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی ادب کی کتابوں کی فروخت اور دلچسپی دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔