پاکستان امریکہ تجارت آئندہ پانچ برسوں میں 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں امریکی کانگریس کے دو جماعتی وفد اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی تجارت 9.4 ارب ڈالر رہی، تاہم یہ دونوں معیشتوں کی حقیقی صلاحیت سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تجارتی روابط اور سرمایہ کاری سے اس ہدف کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ امریکہ اب بھی پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی واحد منڈی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی کپاس اور سویابین کے بڑے خریداروں میں شامل ہے جبکہ امریکی ہائیڈروکاربن مصنوعات کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ جدید مشینری، ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات کی پاکستانی ضرورت امریکی کمپنیوں کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس وقت 80 سے زائد امریکی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، جو ملکی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے امریکی کاروباری وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کئی بڑی کمپنیاں ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، توانائی اور دفاعی شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہتر معاشی اشاریے، جاری اصلاحات اور سازگار تجارتی ماحول نے پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے طویل مدتی منصوبوں میں حصہ لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کاروباری ضوابط آسان بنائے، بیوروکریسی میں رکاوٹیں کم کیں، منظوری کے مراحل تیز کیے اور شفافیت میں اضافہ کیا ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی پارکس کے ذریعے امریکی سرمایہ کاروں کو مسابقتی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسحاق ڈار نے ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی 1.25 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کے ذریعے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔