پاکستان اور جرمنی نے پاکستان جرمنی تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری و کاروباری روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور جرمن سفیر اینا لیپل کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ہوا۔
ملاقات کے دوران جام کمال خان نے جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ جرمن سفیر نے جی ایس پی پلس سے متعلق پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون کو تجارت کے فروغ اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم قرار دیا۔
ملاقات میں پاکستانی باسمتی چاول کے جغرافیائی شناخت (جی آئی) کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ رانا احسان افضل نے جرمن سفیر کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے باسمتی کے کاشتکاروں، پروڈیوسرز اور برآمدکنندگان کے مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
رانا احسان افضل کے مطابق پاکستانی باسمتی کے جی آئی کیس کی مضبوط قانونی، تاریخی اور تجارتی بنیادیں موجود ہیں۔ جرمن سفیر نے کہا کہ جغرافیائی شناخت کا مؤثر تحفظ زرعی برآمدات کے فروغ اور مصنوعات کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔
جرمن سفیر نے پاکستان میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی۔ جام کمال خان نے جرمن کمپنیوں کو نومبر میں کراچی میں ہونے والی فوڈ ایگ پاکستان 2026 میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
جرمن سفیر نے دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ جرمنی میں لائیو اسٹاک کی تجارتی نمائش کے لیے پاکستانی کاروباری وفد کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے جام کمال خان کو 29 سے 31 اکتوبر تک سیول میں ہونے والی ایشیا پیسیفک کانفرنس آف جرمن بزنس میں شرکت کی دعوت بھی دی، جس میں وزیر نے دلچسپی کا اظہار کیا۔