ML-1 منصوبہ

شہباز شریف اور اے ڈی بی نائب صدر کی ملاقات، ایم ایل ون پر پیش رفت کا جائزہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ملاقات میں ML-1 منصوبے پر جلد کام شروع کرنے پر زور دیا۔ ملاقات جمعہ کو اسلام آباد میں ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک ریلوے کوریڈور کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے مال برداری کا نظام جدید ہوگا۔ اس سے علاقائی تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے طویل مدتی تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے 2026 سے 2030 کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی کے تحت ترجیحی منصوبوں پر بھی بات کی۔ وزیراعظم نے اے ڈی بی نائب صدر کا پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خیرمقدم کیا۔

شہباز شریف نے پاکستان میں شہری انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں اے ڈی بی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مالی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کا مرحلہ طے کیا ہے۔ ان اقدامات سے معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خصوصی ایگزیکیوشن ٹاسک فورسز کے ذریعے انتظامی رکاوٹیں دور کر رہی ہے۔ ملاقات میں نجی شعبے، توانائی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور برآمدی مسابقت بھی گفتگو کا حصہ رہے۔

ML-1 منصوبہ 1,733 کلومیٹر طویل ریلوے کوریڈور کی اپ گریڈیشن پر مشتمل ہے۔ یہ کراچی کو پشاور سے ملاتا ہے اور لاہور و راولپنڈی سمیت اہم شہروں سے گزرتا ہے۔ منصوبے میں ریلوے ٹریک کی بحالی اور توسیع شامل ہے۔ مکمل ہونے پر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

حکومت نے کئی سال کی تاخیر کے بعد ML-1 کو قومی ترجیح قرار دیا ہے۔ منصوبے میں مالی وسائل اور انتظامی مسائل کے باعث بار بار تاخیر ہوئی۔ کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر کے ایلیویٹڈ حصے پر بھی کام آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اے ڈی بی کے ساتھ تازہ مذاکرات سے ML-1 منصوبے کو عملی شکل دینے کی نئی کوششوں کا اشارہ ملتا ہے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین