واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کی قیادت میں ایک اور اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایڈم ٹیلی کو قائم مقام آرمی سیکریٹری مقرر کردیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں حالیہ تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ایڈم ٹیلی کو قائم مقام امریکی آرمی سیکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس سے قبل وہ آرمی کے سول ورکس کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈم ٹیلی فوج کے سول ورکس شعبے سے وابستہ رہے ہیں، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں فوج سے متعلق شہری انفراسٹرکچر اور انجینئرنگ کے معاملات شامل رہے ہیں۔
ایڈم ٹیلی کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول حال ہی میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ڈین ڈرسکول کے استعفے کے پس منظر میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ اختلافات کا ذکر کیا گیا، تاہم استعفے کی کوئی واضح وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔
امریکی فوج نے بھی ڈین ڈرسکول کے استعفے کے حوالے سے فوری طور پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ان کی رخصتی کے بعد امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ہونے والی تبدیلیاں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
اس سے قبل بھی امریکی فوج میں کئی غیر متوقع تبدیلیاں سامنے آ چکی ہیں۔ اپریل میں پیٹ ہیگسیتھ نے جنرل رینڈی جارج کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جبکہ جون میں یورپ اور افریقا میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو نے بھی غیر متوقع طور پر استعفیٰ دے دیا تھا۔