وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے ذریعے مالدیپ کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوطرفہ کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان مالدیپ تجارت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری بڑھانے، سیاحت میں تعاون اور کاروباری روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔
وزیر تجارت نے مالدیپ کے صدر محمد معیزو اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے حکام اور کاروباری نمائندے بھی موجود تھے۔ جام کمال نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے سے اقتصادی روابط مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کا اہم موقع ملا ہے۔
جام کمال نے خوراک، ادویات، جراحی کے آلات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی سامان کو برآمدات کے اہم شعبوں میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاول، گوشت، حلال خوراک اور پراسیس شدہ زرعی مصنوعات فراہم کرسکتا ہے۔ آم، ترش پھل، چیری، خوبانی، آڑو اور کھجور سمیت تازہ پھل بھی مالدیپ کی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کے لیے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔
وزیر تجارت نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی زیتون کے تیل کی صنعت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستانی زیتون کا تیل آنے والے برسوں میں عالمی منڈی میں ایک معیاری اور قیمتی مصنوعات کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تجارتی روابط میں اضافے سے پاکستانی کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
سیاحت اور مہمان نوازی کو بھی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا گیا۔ جام کمال نے مالدیپ کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خدمات کے معیار کو سراہا اور ہوٹل مینجمنٹ، پیشہ ورانہ تربیت اور خدمات کے معیار میں تعاون کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاحتی صنعت مالدیپ کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
وزیر تجارت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات، نقل و حمل، بندرگاہوں سے منسلک سپلائی چین اور تخلیقی صنعتوں کو بھی تعاون کے ممکنہ شعبوں میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی اور بحری رابطوں میں بہتری سے تجارت آسان بنانے اور پاکستان مالدیپ تجارت کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔
جام کمال نے پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے جاری اقتصادی اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں ٹیرف کے نظام کو آسان بنانا، صنعتی توانائی کے اخراجات کم کرنا، برآمدی فنانسنگ بڑھانا اور تجارتی طریقہ کار کو سہل بنانا شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان سنگل ونڈو نظام کا حوالہ بھی دیا، جس کے ذریعے تاجر ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر متعدد سرکاری اداروں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
وزیر تجارت نے مالدیپ کے کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مصنوعات کی خریداری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کاروباری وفود کی سہولت اور مقامی شراکت داروں سے رابطوں میں مدد فراہم کرے گی۔ جام کمال نے مالدیپ کے حکام اور تاجروں کو پاکستان کی آئندہ بین الاقوامی فوڈ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی، جس کے گزشتہ ایڈیشن میں 80 ممالک سے 800 سے زائد خریدار شریک ہوئے تھے۔