پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ کشمیر کا تنازع سات دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور آج بھی عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق متعدد مراسلات کونسل کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنازع کشمیر اب بھی بین الاقوامی امن و سلامتی کے تناظر میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
By refusing to implement Security Council resolutions on Jammu and Kashmir, India continues to disregard its obligations under the UN Charter, including Article 25, which requires Member States to accept and carry out the decisions of the Security Council.
India’s efforts to… pic.twitter.com/Iq3u1TCpS8
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 5, 2026
اسیم افتخار احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
جنرل اسمبلی میں اس موضوع پر بھارت کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا، جہاں بھارتی مندوب نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔ پاکستانی وفد نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور اسے عالمی برادری کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز اور خصوصی سیاسی مشنز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عالمی امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پاکستانی وفد کے مطابق اصلاحات کا مقصد زیادہ نمائندگی، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ حکام نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اور مؤثر کثیرالجہتی تعاون ہی عالمی اور علاقائی امن کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔