امریکا ایران امن مذاکرات

پاکستان کی امریکا ایران امن مذاکرات میں پیش رفت کی کوشش

پاکستان نے جاری امریکا ایران امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ Syed Mohsin Naqvi نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araqchi سے ایک اور اہم ملاقات کی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے معاملات اب بھی بڑے تنازعے بنے ہوئے ہیں۔

پاکستانی حکام کی جانب سے حالیہ امریکی پیغام ایران تک پہنچانے کے بعد یہ نئی ملاقات اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا کہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم اگر ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ٹول یا پابندیاں عائد کرتا ہے تو کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔

جاری تنازعے نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور شپنگ روٹس میں رکاوٹوں نے دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی بے یقینی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کم ہوتی بحری سرگرمیاں عالمی سپلائی پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

امریکی صدر Donald Trump نے بھی کہا کہ امریکا ایران کو افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا ایران امن مذاکرات کا مستقبل اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ پابندیوں، یورینیم افزودگی، علاقائی سلامتی اور سمندری راستوں کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین