مقبوضہ غربِ اردن کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں سات ماہ کا فلسطینی بچہ جاں بحق جبکہ اس کے والدین زخمی ہوگئے۔ غربِ اردن میں فلسطینی بچہ جاں بحق ہونے کے اس واقعے نے علاقے میں جاری کشیدگی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے بچے کی شناخت سام فہد ابو ہیکل کے نام سے کی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کے والد اور والدہ کو گولیاں لگنے سے زخم آئے۔ طبی ذرائع کے مطابق دونوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے اور انہیں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ واقعہ الخلیل کے حساس علاقے تل رمیدہ میں پیش آیا۔
خاندان کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں چیک پوائنٹ 17 کے قریب سفر کر رہے تھے جب انہوں نے دور اسرائیلی فوجی گاڑیاں اور اہلکار دیکھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صورتحال دیکھ کر گاڑی روک دی گئی تھی۔ اس کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔
بچے کی دادی کے مطابق ایک گولی بچے کو لگی اور پھر اس کی والدہ کے چہرے کو بھی زخمی کر گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بچے کے والد کی انگلی بھی معمولی طور پر زخمی ہوئی۔ والدہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ فوجی اہلکار الخلیل کے علاقے میں کارروائی کر رہے تھے جب انہیں ایک گاڑی اپنی جانب تیزی سے آتی محسوس ہوئی۔ فوج کے مطابق ایک اہلکار نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے گاڑی پر محدود فائرنگ کی۔ فوج نے تین فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی فوج نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ زخمی ہونے والے افراد کارروائی سے غیر متعلق شہری تھے۔ فوجی حکام کے مطابق واقعے کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو پیش کی جائے گی۔
غربِ اردن میں فلسطینی بچہ جاں بحق ہونے کا یہ واقعہ تل رمیدہ میں پیش آیا، جو طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اسرائیلی آبادکار سخت سیکیورٹی کے حصار میں فلسطینی آبادی کے درمیان رہتے ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ اکثر تنازعات اور جھڑپوں کی خبروں میں رہتا ہے۔