روسی صدر Vladimir Putin نے نئے سارمات جوہری میزائل کے کامیاب تجربے کو سراہتے ہوئے اسے “دنیا کا سب سے طاقتور میزائل” قرار دیا ہے۔ پیوٹن سارمات میزائل ٹیسٹ کے بعد عالمی سطح پر روس کی دفاعی صلاحیتوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
روسی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس تجرباتی لانچ کی نگرانی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف نے کی۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے صدر پیوٹن کو آگاہ کیا کہ میزائل نے کامیابی سے تمام مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس سال کے اختتام تک سارمات میزائل کو باقاعدہ جنگی ڈیوٹی پر تعینات کر دے گا۔ یہ میزائل ہزاروں کلومیٹر دور موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور متعدد جوہری وارہیڈز لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پیوٹن سارمات میزائل ٹیسٹ کو روسی فوجی پروگرام میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس میزائل کی تباہ کن طاقت مغربی ممالک کے کسی بھی میزائل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سارمات جدید اور مستقبل کے میزائل دفاعی نظام کو بھی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سارمات میزائل، جسے مغرب میں “شیطان ٹو” بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں کئی تکنیکی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ 2024 میں ایک ناکام تجربے کے دوران لانچ سائٹ کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم حالیہ کامیاب ٹیسٹ کے بعد روس اب اس کی تعیناتی کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔
پیوٹن سارمات میزائل ٹیسٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور امریکا کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر مخصوص پابندیاں عائد تھیں۔ معاہدے کے خاتمے نے عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے صدر پیوٹن کئی بار روس کے جوہری ہتھیاروں کی طاقت کا ذکر کر چکے ہیں۔ مغربی ممالک ان بیانات کو یوکرین کی حمایت میں مداخلت روکنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تازہ میزائل تجربے کے بعد عالمی سیکیورٹی اور جوہری استحکام پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔