وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مل کر پاکستان کی معیشت مضبوط بنانے اور سفارتی تعلقات بہتر کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر کہی۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملکی قیادت باہمی مشاورت اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت علاقائی امن کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بیرونی جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان کی مذمت کرتا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ برادر اور دوست ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے انہیں علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کو اہم ضرورت قرار دیا اور پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایران کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت قابل قبول ہے۔ ایرانی صدر نے اس مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے مزید کام کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
شہباز شریف نے افغانستان سے متعلق سیکیورٹی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور شہریوں سمیت فوجی و پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔