امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سی این این کی خاتون صحافی پر برہم ہوگئے۔ صحافی نے جنوبی کوریا سے متعلق سوال کیا تو ٹرمپ نے ابتدا میں اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کی، تاہم مسلسل سوالات پر امریکی صدر کا لہجہ سخت ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق سی این این کی صحافی نے صدر ٹرمپ سے جنوبی کوریا کے حوالے سے سوالات جاری رکھے۔ ٹرمپ نے جواب دینے کے بجائے صحافی کے انداز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بے ادب قرار دیتے ہوئے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔
امریکی صدر نے صحافی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک شور مچانے والی اور جعلی رپورٹر قرار دیا۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ سی این این جھوٹی خبریں نشر کرتا ہے، جبکہ صحافی مسلسل صدر سے اپنے سوال کا جواب لینے کی کوشش کرتی رہی۔
تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران ٹرمپ نے سی این این کی ایک اور رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ امریکی صدر نے یو ایس ایس لنکن سے متعلق رپورٹ پر اعتراض کیا، جس میں مبینہ طور پر جہاز پر کھانے کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے سی این این کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یو ایس ایس لنکن پر حالات معمول کے مطابق ہیں اور وہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے سی این این پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس میں صحافی کے ساتھ ہونے والی یہ تلخ گفتگو ایک بار پھر امریکی صدر اور میڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کو نمایاں کرتی ہے۔ ٹرمپ ماضی میں بھی متعدد مواقع پر مختلف میڈیا اداروں کی رپورٹنگ پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔