امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو مؤخر کرنے اور ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی امید ظاہر کرنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے اشارے کے طور پر لیا، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹوں میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں ممکنہ تصادم کے خطرات کم ہونے سے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی آئی، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل تقریباً 89 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی اور یو اے ای مربن خام تیل کی قیمتیں بھی تقریباً 87 ڈالر فی بیرل کے قریب دیکھی جا رہی ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سفارتی پیش رفت قیمتوں کے رخ کا تعین کرے گی۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دیا۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر متعدد اہم انڈیکسز میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی، جسے عالمی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جاپان کا نکی 225 انڈیکس تقریباً 3.5 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر گیا، جس سے جاپانی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری ظاہر ہوئی۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 7.5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حالیہ عرصے کے نمایاں ترین یومیہ اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔