امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش میں دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کردیئے ہیں۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کی سابقہ کوشش مسترد کیے جانے کے باوجود سامنے آیا ہے اور اس سے امریکا کی امیگریشن پالیسی پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
نئے احکامات کا بنیادی ہدف نام نہاد “برتھ ٹورازم” ہے، جس میں حاملہ غی ر ملکی خواتین بچے کی پیدائش کے لیے امریکا کا سفر کرتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق نئے احکامات کے تحت اس عمل کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ پیدائشی شہریت سے متعلق تاریخی استثنیٰ کی دوبارہ تشریح کر رہی ہے۔
ٹرمپ کا یہ اقدام 30 جون کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے ان کے سابقہ صدارتی حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ سابق حکم میں ایسے بچوں کی شہریت تسلیم نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا مستقل قانونی رہائشی نہ ہو۔
نئے احکامات کے تحت امریکا میں غیر ملکی حکومتوں کے ملازمین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں اور ایسے افراد کے بچوں کی شہریت کے حقوق بھی محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے جنہیں “دشمن غیر ملکی” قرار دیا جاتا ہے۔ امیگریشن کے حامی گروہوں نے ان اقدامات کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے بچنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
امریکی پیدائشی شہریت کا معاملہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم سے جڑا ہوا ہے، جس کی طویل عرصے سے یہ تشریح کی جاتی رہی ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے، تاہم اس میں محدود تاریخی استثنیٰ بھی موجود ہیں۔ ان میں غیر ملکی سفارت کاروں کے بچوں اور دشمن قابض افواج کے ارکان کے بچوں کے معاملات شامل ہیں۔
ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے 6-3 فیصلے کو “بدقسمت فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ برتھ ٹورازم کے گرد کاروبار قائم کر رہے ہیں۔ امریکی صدر امیگریشن پر پابندیوں کو اپنی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل کرتے رہے ہیں اور پیدائشی شہریت کو محدود کرنا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق نئے امریکی پیدائشی شہریت کے احکامات بھی عدالتی چیلنج کا سامنا کرسکتے ہیں۔ شہری حقوق اور تارکین وطن کے حامی گروہوں نے انہیں عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے احکامات سپریم کورٹ کے سابق فیصلے کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔