ٹائفون ڈولفن کے باعث مشرقی چین میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، جبکہ شنگھائی میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
طوفان اتوار کی شام صوبہ ژیجیانگ سے ٹکرایا جہاں اس کی رفتار 151 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ بعد ازاں یہ کمزور ہو کر ٹراپیکل طوفان بن گیا، تاہم بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔
پیر کے روز شنگھائی کے مختلف علاقوں میں سڑکیں زیر آب آگئیں۔ شہریوں نے پانی سے بھرے راستوں اور تجارتی علاقوں میں شدید مشکلات کی شکایات کیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق شنگھائی کے دونوں ہوائی اڈوں پر مجموعی طور پر 943 پروازیں منسوخ کی گئیں، جس کے نتیجے میں فضائی آپریشنز کی صلاحیت تقریباً 40 فیصد کم ہوگئی۔
چائنا ایسٹرن ایئرلائنز نے کہا ہے کہ شنگھائی، ژیجیانگ اور دیگر متاثرہ مقامات کے لیے پروازیں مرحلہ وار بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم خراب موسم کے باعث سفری مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔
شنگھائی کے ضلع جنشان میں مقامی حکام نے غیر ضروری کاروباری سرگرمیوں، بیرونی تقریبات اور بعض ٹرانسپورٹ سروسز کو عارضی طور پر معطل کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ مزید بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ٹائفون ڈولفن کے اثرات ژیجیانگ کے علاوہ انہوئی، جیانگسو اور شیڈونگ صوبوں تک بھی پہنچے۔ دوسری جانب بیجنگ میں بھی شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے خدشات کے پیش نظر انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق ڈولفن نے خشکی سے ٹکرانے سے قبل غیر معمولی طویل فاصلہ طے کیا، جس سے ایک وسیع بادلوں کا نظام تشکیل پایا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کا بحرالکاہل ٹائفون سیزن ریکارڈ کے سب سے زیادہ فعال سیزنز میں شامل ہو سکتا ہے۔