اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ کونسل نے فوری طور پر فوجی کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلامتی کونسل نے سعودی عرب میں شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ بحث میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث شہریوں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔
کونسل کے ارکان نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت دہرائی۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان علاقوں میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملے یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی اور علاقائی کشیدگی کے دوران ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں۔
سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے حق دفاع کی توثیق کی۔ کونسل نے شہری تنصیبات کے تحفظ اور اہم عالمی آبی گزرگاہوں میں سلامتی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اقوام متحدہ مسلسل کشیدگی کم کرنے اور یمن کے تنازع کے سیاسی حل کے لیے کوششوں پر زور دے رہا ہے۔
تازہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں اور بحری جہازوں کو لاحق خطرات پر عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور یمن میں استحکام کی کوششوں کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔