گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر تقریباً 7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کے دوران کہی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں معاشی نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو معیشت میں جزوی بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم مہنگائی کے دباؤ کے باعث قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ توقع ہے کہ اگلے مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی کی شرح میں کمی آنا شروع ہو جائے گی، جس سے معاشی استحکام کی امید کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، اور جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو 1500 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اندرونی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بیرونی قرضوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ عالمی معاشی حالات ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برآمدی اہداف میں تقریباً 2 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے تجارتی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے حکومت سے منظوری کا عمل بھی مکمل ہونے کے قریب ہے۔