مینڈاناؤ زلزلہ پیر کے روز فلپائن کے جنوبی علاقے کے قریب ریکارڈ کیا گیا، جس کی شدت 5.81 تھی۔ جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (GFZ) کے مطابق زلزلہ سمندر کے اندر آیا، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
جی ایف زیڈ کے مطابق زلزلے کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ کم گہرائی والے زلزلے عموماً زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے اثرات کا انحصار آبادی سے فاصلے اور مقامی جغرافیائی حالات پر ہوتا ہے۔
فلپائن کے محکمہ زلزلہ پی ایچ آئی وی او ایل سی ایس (Phivolcs) نے بتایا کہ چونکہ زلزلہ سمندر کے اندر آیا، اس لیے کسی بڑے نقصان یا آفٹر شاکس کی توقع نہیں ہے۔ ادارے نے عوام کو اطمینان دلایا کہ فی الحال کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع نہیں ملی۔
فلپائن بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر” میں واقع ہے، جہاں دنیا کی بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں اور زلزلہ نگرانی کا نظام مسلسل فعال رکھا جاتا ہے۔
زلزلے کے بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، تاہم کسی قسم کی وارننگ یا انخلا کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
ماہرین کے مطابق فلپائن کے ساحلی علاقوں میں درمیانی شدت کے سمندری زلزلے نسبتاً عام ہیں۔ بیشتر واقعات میں نقصان نہیں ہوتا، لیکن حفاظتی اقدامات اور بروقت نگرانی عوامی تحفظ کے لیے ضروری رہتی ہے۔
مینڈاناؤ زلزلہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ فلپائن قدرتی آفات کے خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ زلزلے سے متعلق حفاظتی تدابیر پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات کی پابندی کریں۔