کینیڈا ایران پابندیاں

کینیڈا نے ایران کے 10 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

کینیڈا نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 5 ایرانی افراد اور 5 اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ کینیڈین حکومت کے مطابق یہ اقدامات ایرانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اختلافِ رائے کو دبانے اور ڈیجیٹل نگرانی و سنسرشپ سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف کیے گئے ہیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے قابلِ مذمت اقدامات کے خلاف اپنے اختیار میں موجود تمام ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت کے اقدامات میں عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔

نئی پابندیوں میں ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پابندیوں کی فہرست میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔ دیگر افراد میں داؤد معظم گودرزی، رسول جلیلی، محسن فتحی زادہ اور روح اللہ مومن نسب شامل ہیں۔

کینیڈا کی جانب سے جن اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان میں ایرانی آڈیو ویژول میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، ورکنگ گروپ فار ڈیٹرمننگ انسٹینسز آف کریمنل کنٹینٹ، دوران گروپ، یافتار پژوهان پیشتاز رایانش لمیٹڈ کمپنی اور سراج سائبر اسپیس آرگنائزیشن شامل ہیں۔

کینیڈین حکومت کے مطابق ان اداروں کا تعلق میڈیا کی نگرانی، ریاستی سنسرشپ، ٹیکنالوجی اور سائبر سرگرمیوں سے ہے۔ اوٹاوا کا کہنا ہے کہ ایران میں آن لائن اور آف لائن آزادیٔ اظہار، پرامن اجتماع اور انجمن سازی سمیت بنیادی آزادیوں پر پابندیاں برقرار ہیں۔

انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے اقدامات کے جواب میں ہدفی پابندیوں سمیت دیگر دستیاب ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔ نئی پابندیاں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھنے کی کینیڈا کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین