بھارت کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب NEET-UG امتحان سے متعلق تنازع اور طلبہ کے مسلسل احتجاج نے ملکی سیاست اور تعلیمی نظام پر گہرا اثر ڈالا۔
گزشتہ چند ہفتوں سے ہزاروں طلبہ اور نوجوان نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ NEET-UG امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور امتحانی شفافیت پر سوالات نے لاکھوں امیدواروں کا اعتماد متاثر کیا ہے۔ احتجاج کے دوران وزیر تعلیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔
دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر سمیت کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جبکہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ چند معروف فنکاروں اور سماجی شخصیات نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔
اپنے بیان میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے تعلیم، طلبہ کی فلاح اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور شفاف تعلیمی نظام ہی کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے، اسی لیے انہوں نے اس بحران کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات متعلقہ اداروں کے سپرد کیں، امتحان منسوخ کیا اور دوبارہ انعقاد کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ آئندہ برس سے NEET-UG امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (CBT) نظام کے تحت منعقد کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو۔
وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا کہ تازہ نتائج میں مختلف معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ نے نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم ان کے مطابق بعض عناصر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کے واقعات نے انہیں ذاتی طور پر بھی افسردہ کیا، کیونکہ نوجوانوں کا اعتماد کسی بھی نظام کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔