اسلام آباد: وزارت خزانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی عرصے میں مہنگائی کی شرح نسبتاً بلند رہ سکتی ہے، تاہم مجموعی معاشی استحکام برقرار رہنے اور اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ کی جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق جون کے مہینے میں افراطِ زر بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے باعث نئے مالی سال کے آغاز میں بھی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران مہنگائی کی شرح 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی شعبہ مجموعی طور پر مستحکم رہنے کا امکان ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی افراطِ زر، درآمدی اخراجات اور بیرونی شعبے کی کارکردگی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا عمل جاری ہے اور مجموعی معاشی استحکام برقرار رہنے کے امکانات روشن ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور مالی نظم و ضبط کے باعث معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے، جس سے کاروباری اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 41 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو معیشت کے لیے اہم سہارا ثابت ہوئیں۔ اسی عرصے میں حکومتی ریونیو میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملکی برآمدات 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں، جو بیرونی تجارت میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔