اسلام آباد: پاکستان نے برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا پہلا قومی اقتصادی مشن شروع کردیا ہے، جس کے تحت 2030 تک ملکی برآمدات کو 63 ارب ڈالر جبکہ 2035 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں برآمدی معیشت کے فروغ کے لیے ایک مربوط اور مقررہ مدت پر مبنی روڈ میپ تیار کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ’’برآمدات میں تیزی، پیداوار، معیار، جدت اور برانڈنگ‘‘ کے عنوان سے شروع کیے گئے مشن کے خدوخال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومتی منصوبے کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانا اور برآمدی شعبے کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ صرف ایک معاشی ہدف نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری اور قومی بقا سے جڑا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق ملک کو اپنی بیرونی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی آمدنی اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔
قومی اقتصادی مشن کے تحت برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کے ساتھ صنعتی پیداواریت بہتر بنانے، عالمی معیار اپنانے، تحقیق و جدت کو فروغ دینے اور پاکستانی مصنوعات کی مؤثر برانڈنگ پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانے کے اقدامات بھی روڈ میپ کا حصہ ہوں گے۔
منصوبے میں صنعتی کلسٹرز کی ترقی اور پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ جوڑنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی موجودگی میں اضافہ کرنا ہے۔