پمز اسپتال

پمز اسپتال میں اصلاحات کے لیے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں اصلاحات اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے نامور ماہرین صحت کو شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی کمیٹی پمز اسپتال کے انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اسپتال کے موجودہ نظام میں بہتری کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔ کمیٹی انتظامی ڈھانچے اور اسپتال کے امور سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

خصوصی کمیٹی پمز اسپتال کے معاملات چلانے کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق ماہرین کی تجاویز کا مقصد اسپتال کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق پمز اصلاحات کمیٹی اپنی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔ وزیراعظم کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد پمز اسپتال کے انتظامی امور سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب پمز اسپتال کے معاملات چلانے کے لیے بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ آف گورنرز میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ اسپتال کے انتظامی معاملات میں مختلف شعبوں کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

پمز میں اصلاحات کا معاملہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچوں کی المناک اموات ہوئی تھیں، جس کے بعد اسپتال کے انتظامی اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے۔

سانحہ پمز کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو معطل کیا جاچکا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق معطل افسران کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔ نئی اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات کے بعد پمز کے انتظامی نظام میں اہم تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین