خلیجی شپنگ ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تیل بردار جہازوں پر میزائل حملوں کے دعوے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے اہم بحری راستوں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بدھ کے روز گزشتہ دن کے مقابلے میں کافی کم رہی۔ یہ کمی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے صرف دو بحری جہاز گزرے، جبکہ ایک دن پہلے یہ تعداد آٹھ تھی۔ حالیہ کشیدگی سے پہلے اس راستے سے روزانہ تقریباً 130 سے 140 جہاز گزرتے تھے۔
باب المندب آبنائے میں بھی بحری سرگرمی کم رہی، جہاں بدھ کو صرف ایک تجارتی جہاز نے راستہ عبور کیا جبکہ ایک روز قبل 20 جہاز گزرے تھے۔ یہ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر اور خلیج عدن میں ایک اور سعودی ٹینکر کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے تاحال ان واقعات کی تصدیق نہیں کی۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی یمن کے حالات کے ردعمل میں کی گئی ہے، تاہم ریاض نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور ایسے اقدامات کی تردید کی ہے۔
خلیجی شپنگ ٹریفک میں کمی نے عالمی بحری کمپنیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو توانائی کی قیمتوں، تجارت اور عالمی سپلائی چین پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔