کراچی: ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے دوران نوجوان کی ہلاکت کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ایک پولیس اہلکار کو سزائے موت سنا دی۔
عدالت نے پولیس اہلکار شہریار کو نوجوان عامر کے قتل میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا حکم دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور دیگر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
عدالت نے شریک ملزمان پولیس اہلکاروں ناصر اور فیصل کو بھی جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو پانچ، پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق شاہین فورس کے پولیس اہلکاروں نے گلشن اقبال کے علاقے میں نوجوان عامر کو رکنے کا اشارہ کیا تھا، تاہم اس کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے اس کا تعاقب شروع کردیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق پولیس اہلکار تعاقب کرتے ہوئے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے عامر پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔
واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں نے ابتدائی طور پر اسے پولیس مقابلہ قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں واقعے کے حقائق سامنے آنے پر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔