فلو ویکسین کی قلت

پاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، لاہور میں مبینہ جعلی ویکسین برآمد

اسلام آباد: ملک بھر میں موسمی انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث شہریوں کو فلو سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈرگ کنٹرول حکام کے مطابق، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین نومبر کے آخر یا دسمبر میں محدود مقدار میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ فلو ویکسین کا محدود ذخیرہ بھی مارکیٹ میں ختم ہوچکا ہے۔ ویکسین کی طلب اور دستیابی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے باعث شہریوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں، جبکہ اس صورت حال میں غیر معیاری اور مشتبہ مصنوعات کی فروخت کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ویکسین کی قلت کے دوران مارکیٹ میں مبینہ جعلی فلو ویکسین فروخت کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ حکام کے مطابق، لاہور میں ڈرگ انسپکٹرز نے کارروائی کرتے ہوئے ایک معروف ملٹی نیشنل کمپنی کے نام سے منسوب مشتبہ فلو ویکسین کا بھاری ذخیرہ برآمد کیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ تاہم، برآمد شدہ ویکسین کی حتمی اصلیت کے بارے میں فیصلہ لیبارٹری ٹیسٹ اور متعلقہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔

مشتبہ ویکسین کی برآمدگی نے ادویات کی فراہمی اور معیار کی نگرانی سے متعلق خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔ جعلی یا غیر معیاری ویکسین استعمال کرنے سے شہریوں کی صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس لیے مشتبہ مصنوعات کی فروخت روکنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ڈرگ کنٹرول حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ فلو ویکسین صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے خریدیں۔ ویکسین کی پیکنگ، بیچ نمبر اور مستند سپلائی کی تصدیق کرنے کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ویکسین کو مطلوبہ درجہ حرارت پر محفوظ رکھا گیا ہو، کیونکہ کولڈ چین برقرار رکھنا اس کی افادیت کے لیے ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین