وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ممکنہ امریکا ایران امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں ملنے والے اشارے صورتحال میں مثبت پیش رفت ظاہر کرتے ہیں۔
بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی قسم کی مفاہمت یا انتظام کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو سے تین دن کے دوران سامنے آنے والے اشارے حوصلہ افزا ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حالات ایک بار پھر امن معاہدے یا ڈیل کے حق میں بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا بیان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت اور سفارتی حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کیلئے رابطوں میں مصروف ہے۔
ممکنہ امریکا ایران امن معاہدہ خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کرسکتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی کے تناظر میں۔ کشیدگی میں کمی سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی کم ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی منگل کو تہران پہنچے جہاں ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں امریکا ایران کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر بات متوقع ہے۔
خواجہ آصف نے تازہ پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا تاہم اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا۔ امریکا ایران امن معاہدہ ابھی مزید مذاکرات اور دونوں ممالک کے فیصلوں سے مشروط ہے۔