توشہ خانہ کے نئے قواعد 2026

توشہ خانہ کے نئے قواعد 2026، سرکاری تحائف کی نیلامی کا طریقہ کار سخت

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے قواعد کے تحت سرکاری عہدیداروں کو 300 ڈالر تک مالیت کے تحائف کی مقررہ مارکیٹ قیمت ادا کرکے انہیں اپنے پاس رکھنے کی سابقہ سہولت ختم کردی ہے۔ نئے ضابطہ جاتی نظام کا مقصد سرکاری تحائف کے انتظام، ان کی قیمت کے تعین اور نیلامی کے عمل میں شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔

توشہ خانہ (انتظام و انضباط) قواعد 2026 کے مطابق ایسے تحائف، جنہیں سفارتی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر قبول کرنا ضروری ہو، توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوں گے۔ فروخت کے قابل تحائف کو کھلی عوامی نیلامی کے ذریعے پیش کیا جائے گا، جبکہ سابقہ طریقہ کار کے تحت بعض کم مالیت کے تحائف ادائیگی کے بعد اپنے پاس رکھے جاسکتے تھے۔

نئے قواعد میں بعض اشیا کو نیلامی سے مستثنیٰ رکھنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ نوادرات اور تاریخی یا ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کو نیلام نہیں کیا جائے گا، جبکہ قیمتی اور سفارتی لحاظ سے حساس تحائف کو بھی مخصوص شرائط کے تحت استثنیٰ دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کرے گی۔

تاہم نیلامی سے استثنیٰ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ سرکاری عہدیدار تحفہ لازماً ذاتی استعمال کیلئے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ ایسے تحائف کے مستقبل کا تعین متعلقہ کمیٹی کی درجہ بندی اور قابل اطلاق قواعد کے مطابق ہوگا۔ اس لیے استثنیٰ دینے کے عمل میں یکساں پالیسی اور شفاف نگرانی اہم سمجھی جارہی ہے۔

تحائف کی قیمت کے تعین کیلئے بھی نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجی شعبے کا ایک تخمینہ کار تحفے کی مارکیٹ ویلیو مقرر کریں گے۔ دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہونے کی صورت میں تیسرے تخمینہ کار کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ تین ماہ سے پرانا تخمینہ نیلامی کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کیلئے استعمال نہیں ہوسکے گا۔

نئے نظام کے تحت تحائف کی تخمینہ شدہ قیمت، نیلامی کی ابتدائی قیمت اور فروخت کی حتمی رقم ایک آن لائن پورٹل پر شائع کی جائے گی، جسے ماہانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کو نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ براہ راست میڈیا کوریج اور سالانہ تیسرے فریق کے آڈٹ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ تاہم تحائف دینے والی شخصیات اور ان کے ممالک کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔

نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ایک الگ اکاؤنٹ میں جمع ہوگی اور اسے پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی ابتدائی تعلیم کے فروغ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ توشہ خانہ کے نئے قواعد 2026 کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ استثنیٰ کی شقوں پر کس حد تک یکساں عمل درآمد کیا جاتا ہے اور عوام کو سرکاری تحائف کے بارے میں کتنی شفاف معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین