خیبرپختونخوا سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ایک بار پھر کامیاب رہیں، جہاں آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان اور ضلع دیر میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 10 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ یہ آپریشنز ملک میں جاری انسدادِ دہشتگردی مہم کا حصہ ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی 6 اگست کو جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں کی گئی۔ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب مسلح دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران آٹھ دہشتگرد مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اور سکیورٹی تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ بنانا تھا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوسری کارروائی ضلع دیر میں کی گئی، جہاں دو مزید دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان بھی برآمد کیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد مختلف دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ قومی انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی "عزمِ استحکام” کے تحت کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان اور دیر میں کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں پر فخر کرتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق حکومت اور عوام ملکی سلامتی کے لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔