لاہور میں 10 روزہ بسنت منانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق 2027 کے آغاز پر ہونے والی بسنت 29 جنوری سے 7 فروری تک جاری رہے گی۔
منظور شدہ منصوبے کے تحت لاہور میں مقررہ مدت کے دوران بسنت کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ تاہم 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر بسنت جشن ایک روز کے لیے معطل رہے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 10 روزہ بسنت پنجاب کے تہذیبی رنگ اور لاہور کی قدیم تاریخی روایت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے شہر کی ثقافتی شناخت کو ملکی اور عالمی سطح پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو گزشتہ بسنت کے مقابلے میں شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے بہتر انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تقریبات کے دوران عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
مریم نواز نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے بسنت کے دوران ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
یاد رہے کہ 25 سال کے وقفے کے بعد رواں سال لاہور میں بسنت دوبارہ منائی گئی تھی۔ اس موقع پر 6 سے 8 فروری تک مختلف سرگرمیاں منعقد ہوئیں اور شہر میں ایک طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی ہوئی۔
تازہ منظوری کے بعد لاہور میں 10 روزہ بسنت 2027 کے آغاز پر پنجاب حکومت کے اہم ثقافتی پروگراموں میں شامل ہوگی۔ بسنت شروع ہونے سے قبل حفاظتی انتظامات، ضوابط اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔