یو ایس ایس ابراہم لنکن عملہ ذہنی صحت

نو ماہ کی تعیناتی سے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کی ذہنی صحت متاثر

مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے میں ذہنی صحت کے مسائل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن عملہ ذہنی صحت کے خدشات نے امریکی اور عرب میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق طیارہ بردار جہاز تقریباً نو ماہ سے طویل تعیناتی پر ہے۔ اس دوران عملے پر شدید دباؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس میں کچھ اہلکاروں کی سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

کچھ اہلکاروں کے اہل خانہ نے جہاز پر موجود حالات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق خوراک کی مبینہ قلت کے علاوہ ٹوائلٹس اور شاورز کے مسائل بھی موجود ہیں۔ ان حالات نے عملے کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

جہاز پر 5 ہزار سے زائد اہلکار موجود ہیں۔ یہ طیارہ بردار جہاز ایران سے متعلق کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق آپریشنز میں شامل رہا ہے۔ جہاز 21 نومبر 2025 کو سان ڈیاگو سے ایشیا پیسیفک اور مشرق وسطیٰ کی طویل تعیناتی کے لیے روانہ ہوا تھا۔

جہاز نے 11 اور 12 دسمبر کو نیول بیس گوام میں مختصر قیام کیا تھا۔ ماہرین نے طویل تعیناتی کے دوران بندرگاہوں پر طویل قیام نہ ہونے پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن عملہ ذہنی صحت کی صورتحال اسی تناظر میں زیر بحث آئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ذہنی صحت کے خدشات دور کرنا فوج کی ترجیح ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی بعض شکایات پرانی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ ایڈمرل کوپر نے ہفتے کو جہاز کا دورہ بھی کیا۔

ایڈمرل کوپر نے جہاز پر عملے کے درمیان ٹیم ورک اور بھائی چارے کا مشاہدہ کرنے کی بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سمندر میں طویل عرصہ گزارنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان نے خوراک، صفائی، مورال اور خودکشی کی کوششوں سے متعلق رپورٹس پر حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین