اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اقوام متحدہ کے لیے مختصر نیویارک دورہ امریکا اسرائیل تعلقات میں تناؤ کی عکاسی کر رہا ہے۔ وہ چند گھنٹوں بعد اسرائیل واپس جائیں گے۔
نیتن یاہو کے نیویارک دورے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب شامل ہے۔ تاہم ان کے اعلان کردہ شیڈول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار سے ملاقات شامل نہیں ہے۔
نیتن یاہو دورے کے دوران کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ان میں ارجنٹینا، بولیویا، پیراگوئے، پاناما اور ایتھوپیا کے صدور شامل ہیں۔ وہ کولمبیا کے نائب صدر اور یونان، سلووینیا اور پاپوا نیو گنی کے وزرائے اعظم سے بھی ملیں گے۔
نیتن یاہو کا مختصر نیویارک دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات سے قبل ان کی سیاسی پوزیشن بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یہ دورہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مختلف معاملات پر سامنے آنے والے اختلافات کے دوران ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے موجودہ دورِ صدارت میں کئی ملاقاتیں کی ہیں، جن میں آخری ملاقات جولائی میں ہوئی تھی۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان خطے میں جاری تنازعات سے متعلق پالیسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن نے ایران کے معاملے میں سفارتی راستوں پر بھی توجہ دی ہے، جبکہ اسرائیل نے اپنی سکیورٹی ترجیحات برقرار رکھی ہیں۔
نیتن یاہو اقوام متحدہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا دفاع اور عالمی تنقید کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ ان کا مختصر قیام اور امریکی قیادت سے ملاقات کا نہ ہونا دورے کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔