اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون مسلسل جاری ہے، تاہم دفاعی معاہدے کے مختلف نکات پر مکمل عملدرآمد کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
سجاد حیدر خان نے بتایا کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں تربیتی اور لاجسٹک مقاصد کے لیے موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی مختلف شعبوں میں جاری ہے، جبکہ نئے دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ضروری مراحل طے کرنے میں وقت لگے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے مزید پہلو سامنے آئیں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجود مضبوط دفاعی روابط کو باہمی تعاون کا اہم حصہ قرار دیا۔
کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سجاد حیدر خان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک حل طلب اور متنازع مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق بھارتی دعووں اور اقدامات سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی، جبکہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے میں بھی جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت واضح ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے شہر سہارن پور میں مسجد مسمار کیے جانے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی مسماری کا واقعہ بابری مسجد کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاکستان نے مذہبی مقامات سے متعلق ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔
افغان طلبہ کے حوالے سے سجاد حیدر خان نے واضح کیا کہ ان پر مکمل پابندی عائد کیے جانے کا تاثر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طلبہ کے خلاف مکمل پابندی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ درست ویزا اور متعلقہ ڈگری پروگرام میں رجسٹریشن رکھنے والے افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں۔