اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کو چار ماہ کے لیے معطل کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد اسپتال کے انتظامی امور میں اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے افسر اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر کو چار ماہ کیلئے معطل کیا گیا ہے۔ ان کی جگہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان کو تین سال کی مدت کیلئے پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری احکامات کے تحت ڈاکٹر محمد سلمان اپنی نئی ذمہ داری کے ساتھ این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے۔ اس انتظامی اقدام کا مقصد پمز کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانے اور ادارے میں انتظامی نگرانی کو مؤثر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں ڈاکٹر الطاف حسین کی تقرری سے متعلق بھی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ انہیں تین ماہ کیلئے پمز اسپتال کا جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسپتال کے مختلف شعبوں سے متعلق دیگر انتظامی احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
پمز انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا پس منظر اسپتال میں پیش آنے والے سانحے سے جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے بعد اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ افراد کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی۔
معطل کیے جانے والے افراد میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور ایک سینئر رجسٹرار کے خلاف بھی معطلی کی کارروائی کی گئی