وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ دوحہ کرتے ہوئے سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومت اور عوام پاکستان کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دوحہ میں پاکستانی وفد نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور سابق امیر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی بصیرت افروز قیادت، مدبرانہ کردار اور قطر کی ترقی، علاقائی امن اور استحکام کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مرحوم شیخ حمد ہمیشہ پاکستان کے مخلص دوست رہے اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سابق امیر کے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر قطری شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے بلند درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔
Doha: 13 July, 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif undertook a day-long visit to Doha today, to personally convey condolences on behalf of the people and Government of Pakistan, to the leadership and people of the State of Qatar on the passing away of His Highness the… pic.twitter.com/N5uF4eoP7g
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 13, 2026
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور پاکستانی وفد کا دوحہ آکر ذاتی طور پر اظہار تعزیت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کی علامت قرار دیا۔
اس سے قبل حکومت پاکستان نے 13 جولائی کو ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق مرحوم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے احترام میں قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا اور عوام سے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اپیل کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ دوحہ پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کا عکاس ہے۔ شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر کی قیادت کرتے ہوئے ملک کو توانائی، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی میڈیا کے میدان میں نمایاں مقام دلایا، جس کے بعد انہوں نے اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کیا۔