راولپنڈی کے مال روڈ پر منگل کو سیکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ فائرنگ کے بعد ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ ایک اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ راولپنڈی مال روڈ فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ حملہ آور کی شناخت محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے بعد جوابی کارروائی میں اسے ہلاک کردیا گیا۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے تھا۔ پولیس کے مطابق اس کے موبائل فون اور دیگر سامان سے شواہد اور مبینہ روابط سامنے آئے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پی ٹی وی نیوز نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ محمد حسین خیبر ضلع کا رہائشی اور پاکستان تحریک انصاف کا فعال رکن تھا۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ حملہ آور سے پی ٹی آئی کا جھنڈا، گولیاں اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مبینہ ’’تشدد کی سیاست‘‘ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی کوئی وجہ نہیں تھی اور واقعہ مال روڈ پر پیش آنے کی تصدیق کی۔
عطا اللہ تارڑ نے واقعے کو پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے بھی جوڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں بھی پارٹی کے احتجاج میں تشدد ہوا اور بعض کارکن ہتھیاروں کے ساتھ آئے۔ یہ الزامات راولپنڈی مال روڈ فائرنگ کے واقعے کے بعد وزیر اطلاعات نے عائد کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی اور بدامنی پر اکسانے کے خلاف کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ حکام مبینہ طور پر برآمد ہونے والے سامان اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے مکمل حقائق اور محرکات کا تعین کیا جاسکے۔