امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران جنگ “بہت جلد” ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان سے امریکا اور دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق سوالات کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ جاری لڑائی زیادہ دیر تک جاری رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں فریقین زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح تاریخ یا مدت نہیں بتائی۔
ٹرمپ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ خطے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے اور صارفین و کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ مذاکرات، جنگ بندی یا سفارتی کوششوں پر پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کن مخصوص عوامل کی بنیاد پر وہ تنازع کے جلد ختم ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو عالمی اقتصادی معاملات، بالخصوص توانائی کی قیمتوں، سے جوڑتے رہے ہیں۔ ان کے تازہ بیان میں بھی جنگ اور عالمی توانائی مارکیٹ کے درمیان تعلق نمایاں رہا، جہاں علاقائی کشیدگی تیل کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق توقعات کو متاثر کر سکتی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ ایران جنگ سے متعلق یہ بیان امریکی انتظامیہ کے کسی مخصوص جائزے پر مبنی ہے یا صدر ٹرمپ کی ذاتی توقع ہے۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، اس لیے آئندہ صورتحال کا انحصار فوجی اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ کے “بہت جلد” ختم ہونے کی پیش گوئی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ جنگ میں کمی سے خطے کے استحکام اور توانائی کی منڈیوں سے متعلق خدشات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں عالمی مارکیٹ اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔