ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آگیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف آئندہ چند روز میں کارروائی کی جاسکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار استعمال کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے کتنی جلدی استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ایسا ہتھیار آنا عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اسرائیل کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگائے گا، اسی لیے دنیا ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت بہت محدود ہے اور ایران کو “بڑا دھچکا” دینا ضروری ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ حملہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی دو سے تین روز میں، شاید جمعہ، ہفتہ یا اگلے ہفتے کے آغاز میں کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ وہ پیر کے روز ایران پر حملے کی منظوری دینے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے۔ تاہم بعد میں بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر یہ کارروائی مؤخر کردی گئی۔
ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادی ممالک نے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد فیصلہ وقتی طور پر روک دیا گیا۔