امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں مؤخر کیا؟ اسرائیلی صحافی کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن: اسرائیلی صحافی  باراک رویڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ مؤخر کیے جانے کی وجہ سے متعلق اہم دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں اس کے نتائج اور نقصانات انہیں بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سے وابستہ باراک رویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودیہ، قطر اور امارات نے صدر ٹرمپ کو مشترکہ پیغام دیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خلیجی رہنماؤں سے اہم رابطے کیے۔ ان گفتگوؤں میں دوحہ، ابوظبی اور ریاض کی جانب سے زور دیا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو مزید وقت دیا جائے تاکہ سفارتی حل تلاش کیا جاسکے۔

اسرائیلی صحافی کے مطابق خلیجی ممالک نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ردعمل میں ان کی آئل اور انرجی تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں، جس سے پورے خطے کی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

باراک رویڈ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حامی اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ خلیجی اتحادی کسی ایسی جنگ کے خواہاں نہیں جو توانائی کے شعبے اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال دے۔

واضح رہے کہ پیر کی شب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان  کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین