ایران پر امریکی حملے بدھ کے روز اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر نئی کارروائیاں شروع کیں۔ چند ہفتے قبل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود دوبارہ جنگی صورتحال پیدا ہونے سے مشرق وسطیٰ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس، جزیرہ قشم، بندر امام خمینی اور بوشہر کے قریب دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بحرینی حکام کے مطابق دفاعی نظام نے شہری علاقوں کی جانب آنے والے حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ اردن نے بھی کئی ایرانی میزائل مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔ ان واقعات نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ دنوں میں بجلی گھروں اور پلوں سمیت مزید اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
At 6 a.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching a wave of strikes against Iran. The strikes are designed to further degrade military capabilities Iranian forces have used to attack commercial shipping in the Strait of Hormuz.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 15, 2026
آبنائے ہرمز اس تنازع کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے۔ ایران نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ امریکی کارروائیاں بند ہونے تک یہ اہم بحری راستہ بند رہے گا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں بحال کر دیں، تاہم جہازوں پر مجوزہ اضافی فیس واپس لینے کا اعلان بھی کیا۔
جنگ کے دوبارہ آغاز سے سمندری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ عمان کے ساحل کے قریب ایک ناروے کے آئل ٹینکر کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی، جبکہ کویت نے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں اس کا ایک بحری جہاز متاثر ہوا اور چار اہلکار زخمی ہوئے۔ خلیجی ممالک صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ فوج نے بھی اپنے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران پر امریکی حملے دوبارہ شروع ہونے سے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی امن کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔