امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کا تقریباً 90 فیصد دفاعی صنعتی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں نے ایران کی عسکری پیداوار اور اسلحہ سازی کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔
اپنے بیان میں ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران کو اپنے صنعتی دفاعی ڈھانچے کی بحالی میں بہت طویل وقت درکار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے خطے میں اپنے اتحادی گروپوں کو اسلحے کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ان گروپوں میں حماس، حزب اللہ اور حوثی باغی شامل ہیں۔
تاہم دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی اپنی میزائل صلاحیتوں کا تقریباً 70 فیصد حصہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس جائزوں سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگرچہ ایران کو نقصان ضرور پہنچا، لیکن اس کی مکمل عسکری صلاحیت ختم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین امریکی حکام کے دعوؤں کو مبالغہ آمیز قرار دے رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہ انٹیلی جنس معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ان دعوؤں سے مختلف ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کی فوجی طاقت کو فیصلہ کن نقصان پہنچا ہے۔