ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی

ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ کا تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ولیکا اسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے حکم دیا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں گریڈ 20 کے دو افسران بھی شامل کیے جائیں، تاہم ان کا اسپتال یا تحقیقات سے براہ راست کوئی انتظامی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ انسانی زندگی اور عوامی صحت سے متعلق اہم ذمہ داریوں کا ہے، اس لیے تحقیقات شفاف انداز میں کی جانی چاہئیں۔

عدالت نے کمیٹی کو متاثرہ بچوں اور زیر علاج مریضوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی کی منتقلی سے متعلق دستیاب شواہد کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا ڈسپوزایبل سرنجز یا دیگر طبی سامان دوبارہ استعمال تو نہیں کیا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی اسپتال میں آٹو لاک سرنجز کی خریداری، اسٹوریج اور استعمال سے متعلق ریکارڈ بھی چیک کرے گی۔ اس کے علاوہ طبی، نرسنگ، ٹیکنیکل اور انتظامی عملے کے کردار اور ذمہ داری کا تعین بھی تحقیقات کا حصہ ہوگا۔

سندھ ہائیکورٹ نے کمیٹی کو یہ بھی معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے کہ ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ یا دیگر متعلقہ قوانین کی کوئی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ کمیٹی کو ضرورت کے مطابق اسپتال کے ریکارڈ، رپورٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی حاصل ہوگی۔

عدالت نے تحقیقاتی کمیٹی کو 2 ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر شواہد سے کسی فرد کی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف محکمانہ یا فوجداری کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو متاثرہ تمام بچوں کو بلا تعطل اور مناسب طبی علاج فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ادویات، ٹیسٹ اور دیگر ضروری طبی اخراجات حکومت سندھ یا متعلقہ سوشل سکیورٹی ادارہ برداشت کرے گا۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین