پاکستان ایران امریکا امن کوششیں

آذربائیجان کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی

صدر آذربائیجان الہام علیوف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران امریکا امن کوششیں خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں اور پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ باکو میں چوتھے شوشا گلوبل میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور امن کے فروغ میں اس کے کردار کی تعریف کی۔

الہام علیوف نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کوششوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما خطے میں استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری خطے میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق خطے کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف سفارت کاری، باہمی احترام اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

صدر آذربائیجان نے اپنی گفتگو میں کونسل آف یورپ سے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان صرف رکنیت کی معطلی کے معاملے پر نہیں بلکہ کونسل آف یورپ سے مکمل انخلا پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کونسل آف یورپ کے سیکریٹری جنرل الین برسے نے ان سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ آذربائیجان تنظیم نہ چھوڑے اور دونوں فریق تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوئی مشترکہ راستہ تلاش کریں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

کونسل آف یورپ 46 رکن ممالک پر مشتمل انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو یورپی یونین سے الگ کام کرتی ہے اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی نگرانی کرتی ہے۔ اگرچہ آذربائیجان اب بھی اس کا مکمل رکن ہے، تاہم 2024 میں اس کے پارلیمانی وفد کے ووٹنگ حقوق معطل کر دیے گئے تھے۔

صدر الہام علیوف کے بیان نے ایک بار پھر پاکستان ایران امریکا امن کوششیں کو اجاگر کیا اور پاکستان کے سفارتی کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق علاقائی امن، استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے مؤثر سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین