امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس غیر مسلحی کے ایک مرحلہ وار منصوبے پر آمادہ ہو گئی ہے، جس کے تحت گروپ ہتھیار چھوڑے گا جبکہ اس کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے بتدریج انخلا کریں گی۔ تاہم اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کی تاحال سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
بورڈ آف پیس کے مطابق حماس نے اپنے ہتھیار ترک کرنے کے لیے قابلِ عمل منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پیش رفت کو "تاریخی معاہدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا اور غزہ کا انتظام ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے حوالے کیا جائے گا، جس کی نگرانی بین الاقوامی امن مشن کرے گا۔
بیان کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ کی بات چیت کے بعد سامنے آیا، جس میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ بورڈ آف پیس کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد غزہ میں استحکام، تعمیر نو اور اسرائیل کے لیے سکیورٹی کو فروغ دینا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق حماس سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ گروپ کے ہتھیار نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کے حوالے کیے جائیں گے، جو مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ کے عبوری انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔ اے ایف پی نے حماس کے مذاکراتی رکن غازی حمد کے حوالے سے بھی رپورٹ کیا کہ یہ رعایت غزہ کے عوام کو مزید ہلاکتوں اور بے دخلی سے بچانے کے لیے دی جا رہی ہے۔
مجوزہ حماس غیر مسلحی منصوبے میں بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ بورڈ آف پیس کے مطابق مراکش، انڈونیشیا، البانیہ، قازقستان اور کوسووو نے اس فورس میں اپنے اہلکار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم حماس نے اب تک اس منصوبے پر باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے مجوزہ معاہدے کے اہم نکات پر عمل درآمد تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری اور آئندہ مذاکرات پر منحصر ہے۔
مصر کے سرکاری حمایت یافتہ ادارے القاہرہ نیوز کے مطابق فریقین جلد قاہرہ میں ملاقات کر کے منصوبے کے اگلے مرحلے پر بات چیت کریں گے۔ اگر تمام فریق متفق ہو جاتے ہیں تو حماس غیر مسلحی کا یہ منصوبہ غزہ میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔